• Sat, March 14, 2026
  • Ramaḍān 24 1447
  • KHI - PAKISTAN 22.3°C

ماحول / توانائی

کچرے سے بجلی: چین کا ایک تیر سے دو شکار

تحریر: ثمین فاطمہ شائع شدہ ستمبر ۲۰, ۲۰۲۵

کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کوڑا جو ہم روز پھینک دیتے ہیں، چین میں وہی کوڑا بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے؟ یہ کوئی جادو نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا کمال ہے۔ چین نے کچرے کے بڑھتے ہوئے مسئلے اور توانائی کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو ایک ساتھ حل کرنے کے لیے ایک شاندار منصوبہ اپنایا ہے، جسے “ویسٹ ٹو انرجی” (Waste-to-Energy) کہا جاتا ہے۔

اس منصوبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
چین میں کچرے سے بجلی بنانے کا یہ رجحان ایک سادہ سی حقیقت سے جنم لیتا ہے: بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتے ہوئے کچرے کا مسئلہ۔ پچھلے کچھ سالوں میں چین کی شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے ہر روز ٹنوں کے حساب سے کچرا پیدا ہو رہا ہے۔

اس کچرے کو ٹھکانے لگانا ایک بڑا چیلنج بن چکا تھا، کیونکہ روایتی طریقے، جیسے کہ کچرے کے ڈھیر (landfills)، نہ صرف زمین کا بہت بڑا حصہ گھیرتے ہیں بلکہ ماحول کو بھی آلودہ کرتے ہیں۔ ان ڈھیروں سے میتھین گیس (methane gas) خارج ہوتی ہے، جو کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی زیادہ نقصان دہ گرین ہاؤس گیس ہے۔

اسی دوران، چین کی معیشت کی تیز رفتار ترقی نے توانائی کی طلب میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا۔ اس صورتحال میں، چین نے ایک زبردست حل نکالا: کیوں نہ کچرے کو ہی توانائی کا ذریعہ بنایا جائے؟

اس طرح، کچرے کو جلا کر بجلی بنانے کا منصوبہ ایک تیر سے دو شکار کے مترادف ثابت ہوا: اس نے ایک طرف ماحولیاتی مسائل کو حل کیا اور دوسری طرف ملک کی توانائی کی ضروریات کو بھی پورا کرنے میں مدد کی۔

یہ کیسے کام کرتا ہے؟
اس عمل کا طریقہ کار کافی سادہ مگر موثر ہے۔ سب سے پہلے، شہروں سے جمع شدہ کچرے کو خاص طور پر بنائے گئے پلانٹس تک پہنچایا جاتا ہے۔ وہاں اس کچرے کو بڑی بھٹیوں (furnaces) میں 850°C سے 1,100°C کے درمیان درجہ حرارت پر جلایا جاتا ہے۔ اس جلانے کے عمل کے دوران شدید گرمی پیدا ہوتی ہے۔

یہ گرمی ایک بوائلر میں موجود پانی کو ابالتی ہے، جس سے بڑی مقدار میں بھاپ بنتی ہے۔ یہ بھاپ ایک ٹربائن کو گھماتی ہے۔ جیسے ہی ٹربائن گھومتی ہے، اس کے ساتھ لگا ہوا جنریٹر بجلی بنانا شروع کر دیتا ہے۔

اس طرح، نہ صرف بجلی پیدا ہوتی ہے بلکہ کچرے کا حجم بھی تقریباً 90 فیصد تک کم ہو جاتا ہے، جس سے کچرے کے ڈھیر بنانے کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔

ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹیکنالوجی
یہ پلانٹس صرف بجلی نہیں بناتے بلکہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ جلانے سے پیدا ہونے والے دھویں کو صاف کرنے کے لیے ایڈوانسڈ فلٹریشن سسٹمز لگائے گئے ہیں، جو نقصان دہ گیسوں اور ذرات کو فضا میں خارج ہونے سے روکتے ہیں۔

اس طرح، کچرے کو توانائی میں تبدیل کرنے کا یہ عمل ایک صاف ستھرا اور موثر طریقہ ثابت ہوتا ہے جو نہ صرف توانائی پیدا کرتا ہے بلکہ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے مسئلے کا بھی پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔

چین کا یہ منصوبہ نہ صرف ان کے لیے مفید ثابت ہوا ہے، بلکہ یہ دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ کس طرح کچرے جیسے مسئلے کو بھی ایک کارآمد اور مفید چیز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سائنس ڈائجسٹ نیوز لیٹر

اپنے ان باکس میں پہنچائی جانے والی اہم ترین خبروں کی جھلکیاں حاصل کریں۔